نئی دہلی،27؍اپریل ( ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے عدلیہ اور ایگزیکیٹیو کے درمیان چل رہی رسہ کشی کو لے کر وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کی ہے۔ سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرریوں اور عدلیہ کے نظام پر ہورہے تنازعہ کو لے کر کجریوال نے کہا کہ وزیراعظم مودی اب عدلیہ کے ویسا ہی برتاؤ کررہے ہیں، جیسا کہ وہ عام آدمی پارٹی (عآپ)سرکار کے ساتھ کرتے ہیں۔اروند کجریوال نے یہ باتیں اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر لکھی ہیں۔ انہوں نے عام آدمی پارٹی لیڈر آشوتوش کے ایک ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا وزیر اعظم عدلیہ کے ساتھ اسی طرح برتاؤ کررہے ہیں جیسے وہ دہلی حکومت کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں۔مودی نے دہلی حکومت کیساتھ جوکیاہے، اب وہ ٹھیک عدلیہ کے ساتھ ویسا ہی کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت پرالزام لگ رہے ہیں کہ وہ عدلیہ کے کاموں میں مداخلت کررہی ہے۔ دراصل سینئر وکیل اندو ملہوترا کو سپریم کورٹ میں جج بنائے جانے کو لے کر جمعرات کو کانگریس نے اعتراض ظاہر کیا تھا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ مودی حکومت اپنے لوگوں کو عدلیہ میں پہنچانا چاہتی ہے۔ کانگریس کے بعد اب عام آدمی پارٹی نے بھی مرکز کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔کپل سبل نے کہاکہ سپریم کورٹ نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ کے ایم جوسف سب سے قابل جج ہیں۔ پھر بھی مرکزی حکومت نے کولجیم کی طرف سے بھیجے گئے ناموں میں شامل جسٹس جوسف کے نام پر غور نہیں کیا اور اندو ملہوترا کی تقرری کردی گئی۔ واضح رہے کہ کولجیم نے سینئرٹی کی بنیاد پر جسٹس جوسف کو پہلے اور ملہوترا کو دوسرے نمبر پر رکھا تھا۔مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کپل سابل نے کہاکہ بی جے پی کہتی ہے کہ ملک بدل رہا ہے، لیکن ہم کہتے ہیں کہ ملک بدل چکا ہے، آج حکومت عدلیہ کے ساتھ جو برتاو کررہی ہے، وہ پورا ملک جانتا ہے۔ حکومت کا ارادہ واضح ہے کہ وہ جسٹس جوسف کو جج نہیں بننے دیں گے۔ سبل نے کہاکہ حکومت کولجیم کے حساب سے نہیں چلنا چاہتی ہے، کیا وہ عدلیہ سے زیادہ بڑی ہوگئی ہے؟